کورس کی تکمیل
✍محی الدین فاروق
![]() |
ڈاکٹر ہو، انجینئر ہو یا کسی ادارے سے مختصر مدتی کسی زبان کا کورس مکمل کرنے والا—ہر شخص اپنے کورس کے اختتام پر خوشی محسوس کرتا ہے۔ اور کامیابی پر خوشی کا اظہار بھی مختلف انداز میں کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد لوگ اس کی زندگی میں ایک نمایاں تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں—اور اکثر اس کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں۔ اگر کوئی ڈاکٹر بنا ہو تو وہ روزانہ ایک مخصوص لباس میں دواخانے کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے، اس کی گفتگو اور اس کے گرد و نواح کے لوگ بھی رفتہ رفتہ اسی شعبے سے وابستہ نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی حال دیگر طلبہ کا بھی ہوتا ہے جو اپنے منتخب مضامین میں تعلیم مکمل کرتے ہیں؛ حتیٰ کہ کسی زبان کا کورس کرنے والا بھی اس زبان کے استعمال، مہارت، اور اپنے ماحول میں اس کے اثرات کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔
لیکن ایک دوسرا گروہ بھی ہوتا ہے—ایسے افراد کا، جو کتنے ہی کورس کرلیں، کتنی ہی اسناد حاصل کرلیں، مگر ان کی روزمرہ زندگی، رہن سہن اور رویّے میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی۔ وہ بدستور دوسروں پر انحصار کرتے ہیں، اور ان کی جدوجہد بھی اسی دائرے میں محدود رہتی ہے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر معاشرہ ان کے بارے میں اچھا گمان نہیں رکھتا؛ بلکہ انہیں غیر سنجیدہ اور غیر مؤثر افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح انسان کی تربیت کے لیے خالقِ کائنات نے نہایت منظم نظام رکھا ہے۔
انسان کے اندر خیر و شر کا شعور ودیعت کیا گیا، پھر اس کی رہنمائی کے لیے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے واضح احکامات نازل کیے گئے، تاکہ انسان اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور درست راستہ اختیار کرے۔
اگر اسے ایک نظامِ تعلیم سمجھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کوئی شخص صرف کسی مسلم گھر میں پیدا ہو جانے سے مسلمان نہیں بن جاتا، جب تک کہ وہ اس “کورس” کو عملاً مکمل نہ کرے۔ جس طرح ڈاکٹر کے گھر پیدا ہونا اس بچے کے لئے ڈاکٹر بننے میں معاون تو ہوسکتا ہے، لیکن وہ بچہ محض نسبت کی بنیاد پر ڈاکٹر نہیں کہلاتا، بلکہ اسے باقاعدہ تعلیم اور محنت کے بعد ہی یہ مقام حاصل ہوتا ہے، اسی طرح مسلمان ہونا بھی محض نسبت نہیں بلکہ عمل اور سعی کا تقاضا کرتا ہے۔
مسلمان ہونا انسان کی اپنی محنت، اس کی تعلیم، اس کے رویّے، اور اللہ کی طرف سے آنے والے امتحانات میں اس کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ اسی مقصد کے لیے ہر سال ایک مہینہ—رمضان—بطور تربیتی کورس عطا کیا جاتا ہے، تاکہ جو لوگ آگے بڑھ چکے ہیں وہ مزید ترقی کریں، اور جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ توبہ کے ذریعے نئی شروعات کریں اور خود کو آئندہ کے امتحانات کے لیے بہتر تیار کریں۔
یہ کورس سب کے لیے یکساں ہے، اس کا نصاب بھی ایک ہے اور طریقہ بھی ایک۔
ہم ابھی اسی رمضان کی تربیت سے گزرے ہیں، اب ہمیں خود اپنا جائزہ لینا چاہیے:
کیا ہمارے اندر وہ مطلوبہ تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں؟
کیا ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ اس بار ہم نے بہتر تربیت حاصل کی اور ہم اپنے اندر تبدیلی محسوس کررہے ہیں؟
کیا ہم قرآن کے مضامین میں غور و فکر کرنے لگے ہیں، اور کیا ہمارے اردگرد کے لوگ بھی اس میں ہمارے ساتھ شریک ہیں؟
کیا عبادات میں ہمیں لطف آنے لگا ہے اور ان کی اہمیت ہمارے دلوں میں بڑھ گئی ہے؟
کیا تمام امور زندگی میں قرآن فیصلہ کا حتمی معیار بن رہا ہے؟
عید کا دن تو سب پر طلوع ہوتا ہے، مگر اس دن کی اصل خوشی ہر ایک کی اپنی کیفیت پر منحصر ہے۔ اگر یہ خوشی اس کامیابی کی ہے جو رمضان کی تربیت سے حاصل ہوئی، تو یہ ایک حقیقی نعمت ہے—جس پر بندہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔ اسی شکر اور خوشی کے جذبے کے ساتھ وہ اللہ کی کبریائی بیان کرتا ہوا عیدگاہ کی طرف بڑھتا ہے، کیونکہ خوشی منانے کا یہ طریقہ بھی اسی رب نے سکھایا ہے۔
افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب انسان ان لوگوں میں شامل ہو جائے جو ہر کورس کے بعد بھی ویسے کے ویسے رہتے ہیں—نہ ان کے حال میں تبدیلی آتی ہے، نہ ان کے کردار میں نکھار۔ اور یوں وہ معاشرے میں بے وقعتی اور منفی تاثر کا سبب بن جاتے ہیں۔



0 تبصرے