•••••✍🏻ندیم اشرف سہارنپوری•••••
زمانۂ ہستی کے بے کنار افق پر کبھی ایسا بھی لمحہ طلوع ہوتا ہے کہ انسان، جو اپنی فطرت کی پاکیزگی میں ریگِ بیاباں کی مانند بےخطا اور صاف ہوتا ہے، ناگہاں کسی ایسی غلط فہمی کے طوفان میں گھر جاتا ہے جس کی موجیں نہ اُس کے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہیں نہ اُس کے دل کی خطا۔
دلوں کی چٹانوں پر اُگنے والی بدگمانی کی جھاڑیاں جب کسی ایک محرومِ وفا دل کے سینے میں جڑ پکڑ لیں، تو وفاؤں کے قافلے بھی اُس کی نگاہ میں گردِ راہ بن جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ احسانات کی پوری کتاب ایک بے رحم ہوا کے جھونکے میں بکھر گئی ہو، اور رفیقِ دیرینہ کا چہرہ بھی مثلِ سایۂ زوال، اجنبی و بےنشان ہو گیا ہو۔
ایسا مظلومِ بےگناہ، جس نے کبھی بدخواہی نہ کی ہو، اُس کی ہستی پر صرف ایک واہمے کے سبب وہ تیر برسائے جاتے ہیں جن سے دشمن بھی کبھی پیشتر ہاتھ روکے رہتے ہیں۔ اس کے وجود کے آئینے پر اُڑتی ہوئی ایک دھول کو حقیقت سمجھ کر ایسے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں کہ جیسے دل کی عدالت پر اندھیری شب کا پہرہ بیٹھ گیا ہو۔
اور وہ انسان، جو اپنی صفائیِ باطن میں چراغِ نیم شب کی مانند نرم و بےلوث تھا، بدگمانی کے اس سموم سے یوں جھلس جاتا ہے کہ اس کا ہر احسان، ہر خلوص، ہر لمسِ الفت وقت کی مٹی میں دفن ہوتا محسوس ہوتا ہے، مگر وہ پھر بھی شکایت کا دامن نہیں پکڑتا بس خاموشی کے ریگ زار پر اپنے قدم جمع رکھتا ہے۔
کیا سےکیا کر دیا اُس بدگماں کی ضربوں نے
دوست بھی دشمن لگا، میں تو خطا کار نہ تھا



0 تبصرے