وضو سےنماز تک

Views

 •●•═════ •♛• وضو سےنماز تک•♛• ═════•●•


قسط نمبر ایک



{{عن أنس رَضَ اللهُ عَنْهُ قال: قال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمِ}}


حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علمِ دین حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔


یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ دین سیکھنے کی ذمہ داری کسی خاص طبقے تک محدود نہیں۔ خواہ مرد ہو یا عورت، شہری ہو یا دیہاتی، مال دار ہو یا غریب ہر ایک پر لازم ہے کہ دین کا ضروری علم حاصل کرے۔ علم حاصل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی دین کی بنیادی باتیں جاننے، سمجھنے اور عمل میں لانے کے قابل ہو جائے۔

عوام کے لیے اس کا بہتر راستہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کسی صاحبِ فن، تجربہ کار اور معتبر عالمِ دین سے صحیح کتابوں کا درس سنیں۔ اگر پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو خود بھی مطالعہ کر سکتے ہیں، لیکن جہاں کوئی شبہ یا الجھن پیدا ہو، وہاں فوراً کسی معتبر اور اعتماد والے عالم سے پوچھ کر بات کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے، تاکہ دین سمجھنے میں غلطی نہ رہ جائے۔

`اللہ کے نبی کی دوسری حدیث میں بھی صاف لفظوں میں ہے:`

من يُرِدِ اللهُ به خيرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّين

اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ علمِ دین محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے خیر اور توفیق کی علامت ہے۔ جو شخص سیکھنے بیٹھتا ہے وہ دراصل اللہ کے فضل کے دروازے کھولتا ہے، اور جسے دین کی سمجھ مل جائے، اسے دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب ہو جاتی ہے۔

یوں دونوں احادیث مل کر ہمیں یہ حقیقت سمجھاتی ہیں کہ دین کا علم سیکھنا نہ صرف فرض ہے بلکہ انسان کی زندگی، راہِ عمل، اور آخرت کے لیے بنیادی رہنمائی بھی ہے۔ جو جتنا سیکھتا ہے، وہ اتنا ہی روشن راستوں کی طرف بڑھتا ہے۔

`نماز نہ سیکھنے پر حکیم الامت حضرت تھانوی کا اظہار افسوس:`

حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ لکھتے ہیں کہ افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ نماز جیسی اہم عبادت جو روزانہ پانچ بار پڑھنا فرض ہے اور اس کو پڑھتے ہوئے شرائط وار کان کے ہر جزء اور ہر موقع پر بے شمار صورتیں پیش آتی ہیں مگر اس کے باوجود بہت کم دیکھا جاتاہے کہ ان احکام و مسائل کو لوگ دریافت کرتے ہوں۔



჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻჻:✍️.....ابنِ ارشد الاعظمی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے