شبِ براءت میں عبادت کرنا اور اس کے بعد دن میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟

Views

 (سوال) شبِ براءت میں عبادت کرنا اور اس کے بعد دن میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟

 نیز ہمارے یہاں حلوہ نہیں بنتا بلکہ اس دن اچھا کھانا پکا کر غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟ اور کیا اس رات ہمارے مرحومین کی روحیں گھروں میں آتی ہیں؟


شبِ براءت میں عبادت کرنا اور اس کے بعد دن میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟

(جواب)         شب براءت میں نفل عبادت کرنا، کھانا تیار کر کے غرباء و مساکین میں تقسیم کرنا شرعاً جائز اور موجبِ اجر ہے، اور بعض روایات میں اس رات ارواح کے گھروں میں آنے کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم وہ روایات ضعف سے خالی نہیں ہیں، اس لیے ان پر قطعی عقیدہ قائم نہیں کیا جائے گا، البتہ یہ بات دلائلِ شرعیہ سے ثابت ہے کہ مؤمنین کی ارواح کو الله تعالیٰ کی مشیت سے اس قدر تصرف حاصل ہوتا ہے کہ وہ جہاں چاہیں جائیں اور زندہ لوگوں کے احوال سے باخبر بھی ہوں، لہٰذا ایسی بابرکت راتوں میں کثرتِ عبادات کے ساتھ مؤمنین و مؤمنات کی ارواح کے لیے ایصالِ ثواب کرنا اور ان کے حق میں دعا کرنا نہایت مناسب، باعثِ خیر اور موجبِ رحمت ہے۔ امام حکیم ترمذی فرماتے ہیں:

    عن النعمان بن بشير رضي الله عنه قال قال رسول الله ﷺ لم يبق من الدنيا إلا مثل الذباب تمور في جوها فالله الله في إخوانكم من أهل القبور فان أعمالكم تعرض عليهم الأرواح أنواع أرواح تجول في البرزخ فتبصر أحوال الدنيا والملائكة تتحدث في السماء عن أحوال الآدميين وأرواح تحت العرش وأرواح طيارة في الجنان على قدر أقدارهم من السعي أيام الحياة إلى الله تعالى والعبودة له في محلهم. قال سلمان رضي الله عنه أرواح المؤمنين تذهب في بزرخ من الأرض حيث شاءت من السماء والأرض حتى يردها الله تعالى إلى جسدها فإذا تردت الأرواح هكذا علمت أحوال الأحياء وإذا ورد عليهم ميت التقوا به فتحدثوا وتسائلوا عن الأخبار وخرج من تدبير الله تعالى أن وكل بهم أيضا ملائكة تعرض أعمال الأحياء عليهم كي إذا عرضوا عليهم ما يعاقبون به في الدنيا ويصابون به من أنواع المصائب من أجل الذنوب كان عذر الله تعالى ظاهرا مكشوفا عند الأموات بأنه لا أحد احب إليه العذر من الله تعالى. قال ﷺ فيما رواه أنس رضي الله عنه إن أعمالكم تعرض على عشائركم وأقاربكم من الموتى فإن كان خيرا استبشروا به وإن كان غير ذلك قالوا اللهم لا تمتهم حتى تهديهم إلى ما هديتنا وقال ﷺ تعرض الأعمال يوم الاثنين ويوم الخميس على الله تعالى وتعرض على الأنبياء وعلى الآباء والأمهات يوم الجمعة فيفرحون بحسناتهم ويزدادون وجوههم بيضا ونزهة فاتقوا الله ولا تؤذوا موتاكم. (نوادر الأصول، ٢٥٩/٢) 

    یعنی حضرت نعمان بن بشیر رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: دنیا میں اب کچھ باقی نہیں رہا مگر مکھی کے برابر جو اپنے ماحول میں منڈلا رہی ہو، پس الله الله کرو اپنے ان بھائیوں کے بارے میں جو قبروں والے ہیں، کیونکہ تمہارے اعمال ان پر پیش کیے جاتے ہیں؛ ارواح کی مختلف قسمیں ہیں، بعض ارواح برزخ میں گردش کرتی ہیں اور دنیا کے احوال کو دیکھتی ہیں، فرشتے آسمان میں آدمیوں کے حالات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں، کچھ ارواح عرش کے نیچے ہوتی ہیں اور کچھ ارواح جنتوں میں اڑتی پھرتی ہیں، یہ سب اپنے اپنے درجے کے مطابق ہوتی ہیں جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں الله تعالى کی طرف سعی اور اس کی بندگی کے اعتبار سے حاصل کیا ہوتا ہے؛ حضرت سلمان رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ مومنوں کی ارواح زمین کے ایک برزخ میں جہاں چاہیں جاتی ہیں، آسمان اور زمین کے درمیان، یہاں تک کہ الله تعالى انہیں ان کے جسموں کی طرف لوٹا دیتا ہے، پھر جب ارواح اس طرح لوٹتی ہیں تو وہ زندہ لوگوں کے حالات کو جان لیتی ہیں، اور جب ان کے پاس کوئی میت آتی ہے تو وہ اس سے ملاقات کرتی ہیں، آپس میں گفتگو کرتی ہیں اور خبریں پوچھتی ہیں، اور الله تعالى کی تدبیر میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے ان پر فرشتے مقرر کیے ہیں جو زندہ لوگوں کے اعمال ان کے سامنے پیش کرتے ہیں، تاکہ جب ان کے سامنے وہ اعمال پیش کیے جائیں جن کی وجہ سے دنیا میں عذاب دیا جاتا ہے یا گناہوں کے سبب طرح طرح کی مصیبتیں آتی ہیں تو الله تعالى کا عذر مردوں کے سامنے ظاہر اور واضح ہو جائے، کیونکہ الله تعالى سے بڑھ کر عذر پسند کرنے والا کوئی نہیں؛ اور نبی ﷺ نے حضرت انس رضي الله عنه سے مروی حدیث میں فرمایا کہ تمہارے اعمال تمہارے خاندانوں اور مرے ہوئے رشتہ داروں پر پیش کیے جاتے ہیں، اگر وہ اچھے ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر اس کے علاوہ ہوں تو کہتے ہیں: اے الله! انہیں موت نہ دینا یہاں تک کہ تو انہیں بھی اسی ہدایت تک پہنچا دے جس کی تو نے ہمیں ہدایت دی، اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ اعمال پیر اور جمعرات کے دن الله تعالى پر پیش کیے جاتے ہیں اور جمعہ کے دن انبیاء اور باپوں اور ماؤں پر پیش کیے جاتے ہیں، پس وہ ان کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہرے مزید سفید اور روشن ہو جاتے ہیں، لہٰذا الله سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اذیت نہ دو۔                                     والله تعالى أعلم.

 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے